اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی مزاحمتی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے زور دیا ہے کہ صنعاء اصولی طور پر سعودی عرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی ختم کرنے کے لیے کسی بھی ثالثی کا خیرمقدم کرتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ یمن کے خلاف جارحیت بند کی جائے اور اس کا مکمل محاصرہ ختم کیا جائے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کے ذریعے سعودی عرب کی جانب سے دو ہفتے سے ایک ماہ تک کی عارضی جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ ان کے مطابق، اس ناکامی کی وجہ صنعاء کا نامکمل اور عارضی حل قبول کرنے سے انکار ہے۔ البخیتی نے ریاض پر الزام لگایا کہ وہ جنگ میں اپنے بنیادی کردار کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہا ہے۔
البخیتی نے کہا کہ صنعاء کا مطالبہ ہے کہ دونوں جانب سے جنگ ختم کی جائے اور محاصرہ اٹھایا جائے۔ ایران کی ثالثی اس لیے ناکام ہوئی کیونکہ سعودی عرب حقیقت تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ سعودی قیادت نے پہلے یمن کے خلاف جارحیت اور محاصرے کی منصوبہ بندی اور قیادت کے لیے ایک وسیع بین الاقوامی فوجی اتحاد کو متحرک کیا اور اب دنیا سے کہتی ہے کہ ہمارا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سعودی عرب اسی جارحیت اور محاصرے کو ختم کرانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے جس کی قیادت وہ خود کر رہا ہے۔ یہ بات کسی بھی طرح منطقی نہیں ہے۔
یمنی ذرائع ابلاغ کے مطابق، انہوں نے مزید کہا کہ سعودی قیادت اس حقیقت کو بھی نظر انداز کر رہی ہے کہ اب دونوں جانب سے جنگ اور محاصرے کا خاتمہ یمن اور سعودی عرب کے مشترکہ مفاد میں ہے، بلکہ یہ خود سعودی عرب کے لیے بھی زیادہ بڑے مفاد کا معاملہ ہے۔
یمن میں اقوام متحدہ کی جانب سے 2022 میں جنگ بندی کے بعد نسبتاً سکون قائم ہوا تھا۔ اس دوران روڈ میپ کے معاہدے پر عمل درآمد کی کوششیں جاری تھیں، جس کے تحت سعودی عرب نے جارحیت اور محاصرہ ختم کرنے اور جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ صورت حال میں نئی کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب ریاض نے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کیے تاکہ ایک طیارے کو وہاں اترنے سے روکا جا سکے۔
صنعاء کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ستمبر کے آغاز سے اب تک یمن کے دارالحکومت اور مختلف صوبوں، جن میں صعدہ، تعز اور حجہ شامل ہیں، پر 2170 سے زیادہ شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ اس دوران ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر عائد پابندیاں بھی بدستور جاری ہیں۔
ان جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں یمنی فوج نے ’’محاصرے کے جواب میں محاصرہ اور شدت کے جواب میں شدت‘‘ کی حکمت عملی نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے تحت سعودی عرب سے متعلق بحری جہازوں اور پروازوں کے لیے فضائی اور بحری آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا۔
صنعاء کے مقرر کردہ اہداف میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ریاض اور مشرقی علاقے میں واقع اہم تنصیبات بھی شامل تھیں۔ ان میں تازہ ترین کارروائیوں کے دوران تناجیب پلانٹ اور شقدَم اسٹیشن کو ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
سعودی ہوائی اڈے بھی براہ راست حملوں کی زد میں آئے۔ ان میں نمایاں طور پر ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور دمام کے شاہ فہد ہوائی اڈے کو بار بار نشانہ بنانے کی اطلاعات شامل ہیں، جن کے نتیجے میں پروازیں معطل ہوئیں اور دونوں ہوائی اڈوں کو مکمل طور پر بند کرنا پڑا۔
صنعاء کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی، یعنی ’’محاصرے کے جواب میں محاصرہ اور شدت کے جواب میں شدت‘‘، اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ریاض جنگ میں اپنے حقیقی کردار کو تسلیم نہیں کرتا اور یمن کے خلاف جارحیت اور محاصرہ ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
آپ کا تبصرہ